اتوار 16 اگست 2026 - 12:35
رسول اکرم (ص) اور حضرت فاطمہ زہرا (س) کی آخری گفتگو؛ رہبر شہید نے آخری گفتگو کی حقیقت بیان کی

حوزہ/ رہبر شہید انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ایؒ نے درس خارج فقہ کے آغاز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے درمیان آخری گفتگو سے متعلق ایک روایت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ طرزِ عمل اسلام میں عورت اور خاندان کے مقام و احترام کی بہترین مثال ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر شہید انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ایؒ نے درس خارج فقہ کے آغاز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے درمیان آخری گفتگو سے متعلق ایک روایت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ طرزِ عمل اسلام میں عورت اور خاندان کے مقام و احترام کی بہترین مثال ہے۔

انہوں نے حضرت عائشہ سے منقول روایت پیش کرتے ہوئے کہا:

«ما رَأَیتُ مِنَ النّاسِ اَحداً اَشبَهَ کَلاماً وَ حَدیثاً بِرَسولِ اللهِ مِن فاطِمَة»

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے لوگوں میں کسی کو گفتگو اور اندازِ بیان کے اعتبار سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہ نہیں دیکھا۔

رہبر شہید نے اس کے بعد روایت کے اس حصے کی تشریح کی:

«کانَت اِذا دَخَلَت عَلَیهِ رَحَّبَ بِها وَ قَبَّل یَدَیها وَ اَجلَسَها فی مَجلِسِه»

جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپؐ ان کا استقبال کرتے، ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیٹی کے ساتھ اس قدر احترام سے پیش آتے تھے کہ ان کے لیے کھڑے ہوتے، ان کا استقبال کرتے، ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔ حضرت فاطمہؑ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسی طرح محبت و احترام کا اظہار کرتی تھیں:

«فَاِذا دَخَلَ عَلَیها قامَت اِلَیهِ فَرَحَّبَت بِهِ وَ قَبَّلَت یَدَیهِ»

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہؑ کے گھر تشریف لے جاتے تو وہ آپؐ کے استقبال کے لیے کھڑی ہوتیں، خوش آمدید کہتیں اور آپؐ کے ہاتھوں کو بوسہ دیتیں۔

امام خامنہ ایؒ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری بیماری کے دوران پیش آنے والے واقعے کی طرف بھی اشارہ کیا۔ روایت میں ہے:

«وَ دَخَلَت عَلَیهِ فی مَرَضِهِ فَسارَّها فَبَکَت ثُمَّ سارَّها فَضَحِکَت»

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری بیماری کے دوران آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے سرگوشی میں کچھ فرمایا تو وہ رونے لگیں، پھر دوبارہ آپؐ نے ان سے سرگوشی کی تو وہ مسکرا دیں۔

حضرت عائشہ کہتی ہیں:

«فَقُلتُ کُنتُ اَریٰ لِهٰذِهِ فَضلاً عَلَی النِّساءِ فَاِذا هِیَ اِمرَأَةٌ مِنَ النِّساءِ»

میں سمجھتی تھی کہ حضرت فاطمہؑ کو دوسری خواتین پر فضیلت حاصل ہے، لیکن جب میں نے انہیں ایک لمحے روتے اور دوسرے لمحے مسکراتے دیکھا تو میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا۔

حضرت عائشہ نے حضرت فاطمہؑ سے اس کی وجہ دریافت کی تو آپؑ نے فرمایا:

«اِنّی اِذَن لَبَذِرَةٌ»

اگر میں تمہیں یہ راز بتا دوں تو میں راز افشا کرنے والی بن جاؤں گی۔

رہبر شہید نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت عائشہ نے دوبارہ حضرت فاطمہؑ سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا۔ اس وقت حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:

«اِنَّهُ اَخبَرَنی اَنَّهُ یَموتُ فَبَکَیتُ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی وفات کی خبر دی، جس پر میں رو پڑی۔

پھر فرمایا:

«ثُمَّ اَخبَرَنی اَنّی اَوَّلُ اَهلِهِ لُحوقاً بِهِ فَضَحِکتُ»

اس کے بعد آپؐ نے مجھے بتایا کہ میں ان کے اہل بیت میں سب سے پہلے ان سے جا ملوں گی، جس پر مجھے خوشی ہوئی اور میں مسکرا دی۔

امام خامنہ ایؒ نے اس روایت کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے درمیان گہری محبت، باہمی احترام اور روحانی تعلق کی روشن مثال قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha